نئی دہلی 12/اگست (ایس او نیوز) سپریم کورٹ نے 15 اپریل کو پریاگ راج میں سابق لوک سبھا ممبر عتیق احمد اور ان کے بھائی اشرف کی پولیس حراست میں ہلاکت پر اتر پردیش حکومت کی کھنچائی کی ہے، اور مشاہدہ کیا ہے کہ " ان کی موت کے پیچھے کوئی تو ملوث ہوگا"۔ عدالت نے یوگی حکومت سے 2017 سے اب تک ہونے والے 183 "پولیس انکاونٹر" کے بارے میں بھی اسٹیٹس رپورٹ طلب کی ہے۔
سپریم کورٹ نے یوپی میں زور آور لیڈر عتیق احمد اور ان کے بھائی اشرف کے قتل پر سماعت کے دوران یوگی سرکار سے پوچھا کہ انکاؤنٹر کی نگرانی کا کیا نظام ہے؟ کیا انکاؤنٹر میں این ایچ آر سی اور سپریم کورٹ کے رہنما خطوط پر عمل کیا گیا تھا ؟
جسٹس ایس رویندر بھٹ اور اروند کمار کی بنچ نے جمعہ کو یوپی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ چھ ہفتوں کے اندر اندر ایک حلف نامہ داخل کرے جس میں 2017 سے ہوئے تمام انکاونٹر کی تفصیلات، تحقیقات کی حیثیت اور چارج شیٹ داخل کی جائے اور مقدمے کی اسٹیٹس رپورٹ کی تفصیلات بھی بتائی جائے۔
دوران سماعت جسٹس نے کہا کہ یہ بے حد تشویشناک بات ہے کہ پولس کسٹڈی میں بھی اس طرح کے واقعات ہو رہے ہیں اور عدالتی حراست میں بھی واقعات ہو رہے ہیں۔ جسٹس نے کہا کہ ایسا ہوتا ہے تو اس سے لوگوں کا اعتماد مجروح ہوتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ہم یہاں تحقیقات کے لیے نہیں بیٹھے ہیں لیکن جاننا چاہتے ہیں کہ کوئی نظام موجود ہے یا نہیں ہے؟